ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بنٹوال میں ہوئے قتل کے ملزمین کو سیشن کورٹ سے ملی تھی ضمانت، ہائی کورٹ نے کیا رد

بنٹوال میں ہوئے قتل کے ملزمین کو سیشن کورٹ سے ملی تھی ضمانت، ہائی کورٹ نے کیا رد

Sun, 15 Jan 2017 15:36:47    S.O. News Service

بنٹوال 15/جنوری (ایس او نیوز) ملائی بیٹو نامی مقام کے رہنے والے محمد ناصر کے قتل میں ملوث جن ملزمین کو سیشن کورٹ نے ضمانت دی تھی،اس کے خلاف مقتول کے وارثین کی اپیل کو منظور کرتے ہوئے ریاستی ہائی کورٹ نے ضمانت رد کردی ہے اور ملزمین کو حکم دیا ہے کہ 16/جنوری تک عدالت کے سامنے خود سپرد (سرینڈر) ہو جائیں۔

 معاملے کی تفصیل یہ بتائی جاتی ہے کہ میستری کے پیشے سے وابستہ محمد ناصر۷/ستمبر ۵۱۰۲؁ء کو شام کے وقت اپنا کام ختم کرکے مصطفی نامی ایک شخص کے آٹو رکشہ میں اپنے گھر کی طرف سفر کر رہا تھا۔ اسی دوران چار لوگوں کی ایک ٹولی نے کسی کا پتہ پوچھنے کے بہانے سے رکشہ روکا اورپھر اچانک ناصر اور مصطفی پر ہلاکت خیز ہتھیاروں سے حملہ کردیا۔یہ حملہ اتنا شدید تھا کہ ناصر نے موقع پر ہی دم توڑ دیااور زخمی مصطفی علاج و معالجے کے ساتھ دھیرے دھیرے صحتیاب ہوا۔

 معاملے کی تحقیقات کرتے ہوئے پولیس نے چار میں سے تین ملزموں کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی جن کے نام وجیت کمار، کرن پجاری،انیش عرف دھنّو پجاری ہیں۔ لیکن تعجب خیز بات یہ ہوئی ان کو عدالتی حراست میں بھیجے جانے کے ایک آدھ مہینے کے اندر ہی قتل کے تینوں ملزموں کو سیشن کورٹ سے ضمانت مل گئی۔ مقتول محمدناصر کے گھر والوں نے اس ضمانت کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کردی۔ جس پرشنوائی کے دوران دونوں فریقوں کی بحث اور پولیس کے موقف کو نظر میں رکھتے ہوئے ہائی کورٹ نے سیشن کورٹ کی طرف سے دی گئی ضمانت کو رد کردیا اور ملزمین کو عدالت میں خود سپرد ہونے کا حکم جاری کردیا ہے۔
 


Share: